اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔انبنا۔ ترجمان دفترخارجہ بہرام قاسمی نے ہفتہ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ نے ایسے وقت میں یہ فیصلہ کیا ہے جب حزب اللہ، لبنان میں ایک بڑی جماعت کی حیثیت سے عوام میں بھرپور مقبولیت رکھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر لبنانی سیاسی جماعتوں کی طرح حزب اللہ بھی سیاسی عمل میں حصہ لے کر ملک میں قانونی سرگرمیاں سرانجام دے رہی ہے جبکہ حزب اللہ کے نمائندے بلدیاتی انتخابات اور دیگر تعمیری سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیتے ہیں۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ لبنانی پارلیمنٹ میں نہ صرف حزب اللہ کی نشستیں ہیں بلکہ لبنان کی کابینہ میں بھی اس کے نمائندے موجود ہیں اور لبنان کے خلاف صیہونی جارحیت کو روکنے پر درخشاں کارنامے کی وجہ سے لبنانی اور علاقائی اقوام حزب اللہ کی مداح ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ حزب اللہ سے متعلق لبنانی عوام کی رائے کو نظرانداز کرنے کے بجائے لبنان کے حالیہ انتخابات میں حزب اللہ کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد پر نظر ڈالنے اور حقائق کو سمجھنے کی کوشش کرے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ یقینا حکومت برطانیہ کا یہ غلط اقدام، حزب اللہ کے کردار اور خطے میں اس کی پوزیشن کو متاثر نہیں کر سکتا۔ انہوں نے حکومت برطانیہ کو مشورہ دیا کہ وہ حقائق کو سجھنے کے لیے لبنان کے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں حزب اللہ کو ملنے والے ووٹوں کی شرح اور اس کی انتخابی سرگرمیوں پر غور کرے۔
بہرام قاسمی نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران حزب اللہ کو جائز اور قانونی تحریک سمجھتا ہے جو اپنے ملک میں سیاسی استحکام اور سلامتی کے تحفظ میں موثر اور ناقابل تردید کردار ادا کر رہی ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ لبنان نے برطانوی حکومت کے مخاصمانہ اقدام کو کہ جس کے تحت اس نے لبنان کی بڑی سیاسی اور عوام میں مقبول جماعت کی حیثیت سے حزب اللہ کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے، لبنانی عوام کے احساسات اور جذبات کی توہین قرار دیا ہے۔
حزب اللہ نے ایک بیان جاری کر کے برطانوی حکومت کے اس اقدام کو امریکی پالیسیوں کی پیروی قرار دیا اور کہا کہ اس اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی حکومت، واشنگٹن کے حکام کو خوش رکھنے کے لئے علاقے کے عوام کے ساتھ عداوت کر رہی ہے۔
حزب اللہ لبنان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تکفیری دہشت گردوں اور اسرائیل کی توسیع پسندیوں کے خلاف جنگ میں اس تحریک کا موقف کسی بھی صورت میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔
حزب اللہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جو ملک دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے اس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ حزب اللہ یا کسی بھی دیگر تنظیم پر دہشت گردی کی حمایت کرنے کا الزام عائد کرے-
دوسری جانب برطانیہ کی حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوربن نے کہا ہے کہ حزب اللہ کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کرنے کے لئے برطانوی حکومت کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔
جیرمی کوربن نے کہا کہ برطانوی حکومت کا یہ فیصلہ مستقبل میں برطانیہ اور لبنان کے تعلقات کو متاثر کرے گا۔
برطانوی لیبر پارٹی کے رہنما نے ایک بار پھر کہا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ حزب اللہ، علاقے کی سیکورٹی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲